تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ القاریہ

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الْقَارِعَةُ  (۱)

کھڑ کھڑا دینے والی‏

مَا الْقَارِعَةُ (۲)

کیا ہے  وہ کھڑ کھڑا دینے والی۔‏

وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ (۳)

تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑانے والی کیا ہے۔‏

اعمال کا ترازو

الْقَارِعَةُ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے حآقہ ،طآمہ، صآخہ، غاشیہ وغیرہ

اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟

اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا پھر خود بتاتا ہے:

يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ (۴)

جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے

اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے جس طرح پروانے ہوتے ہیں

 اور جگہ فرمایا ہے

كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ  (۵۴:۷)

گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں

پھر فرمایا

وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ  (۵)

اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔‏

پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ (۶)

پھر جس کے پلڑے بھاری ہونگے۔

فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ (۷)

وہ دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا۔

وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ (۸)

جن کے پلڑے ہلکے ہونگے۔

اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائیگا نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائیگی جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام  کی جنت میں بسر کرے گا اور جسکی بدیاں نیکیوںپر چھا گئیں بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائیگا وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائیگا

فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ    (۹)

اس کا ٹھکانا ہاویہ (جہنم) ہے۔ ‏

أُمُّ سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل هَاوِيَة   میں جائیگا

 اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اسے کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے

اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے

 هَاوِيَة   جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:

وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ    (۱۰)

تجھے کیا معلوم کہ وہ کیا ہے  ‏

تمہیں نہیں معلوم کہ هَاوِيَة   کیا ہے؟

نَارٌ حَامِيَةٌ (۱۱)

وہ تند تیز آگ ہے

اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے

حضرت اشعث بن عبداللہ فرماتے ہیں :

 مؤمن کی موت کے بعد اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں هَاوِيَة   میں پہنچا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے

لوگوں نے کہاحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہلاکت کو تو یہی کافی ہے

آپ نے فرمایا ہاں لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے

صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے

 مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے مسند کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے:

 یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے

 ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے :

 جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی پس اب وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے

 مسند احمد کی حدیث میں ہے :

 سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہونگی جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا

بخاری و مسلم میں ہے:

 آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں ایک گرمی میں پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو یہ اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے

 اور حدیث میں ہے :

 جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com