تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ التکاثر

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (۱)

ز یادتی کی چاہت نے تمہ9یں غافل کر دیا ‏

حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (۲)

یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔

مال و دولت اور اعمال

ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی  (ابن ابی حاتم)

حسن بصری فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا

صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم لو کان لابن آدم واد من ذھب (یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کرسونا ہو) اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے یہاں تک کہ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ نازل ہوئی۔

مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں جناب رسول اللہ صلی اللہ کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا:

 ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال صر ف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا

صحیح مسلم شریف میں اتنا اور زیادہ ہے :

 اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔

بخاری کی حدیث میں ہے:

 میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے

گھر والے ، مال اور اعمال اہل و مال لوٹ تو آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے:

 ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اورامنگ

حضرت ضحاکؒ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟

اس نے کہا میرا

فرمایا تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کرے

حضرت احنف نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا

انت للمال اذا امسکتہ

فاذا انفقتہ فالمال لک

یعنی جب تک تو مال کو لیے بیٹھا ہے تو تو مال کی ملکیت ہے

ہاں جب اسے خرچ کردے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائےگا

ابن بریدہؒ فرماتے ہیں :

بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبیلے والےآ پس میں فخر وغر ور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلا ں شخص ایسابہادر ایساجیوٹ یا اتنا مالدار ہے دوسرے  قبیلے والےاپنے میں ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخرو مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے چاہیے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے ۔

 حضرت قتادہؒ فرماتے ہیں :

 لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہوگئے ۔

صحیح حدیث میں ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا کوئی ڈر خوف نہیں انشاء اللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہوگی تو

 اس نے کہا آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبر تک پہنچا کر رہتا ہے

 آپ نے فرمایا اچھا پھریوں ہی سہی

اس حدیث میں بھی لفظ تزیرہ القبور ہے اور یہاں قرآن میں بھی زرتم المقابر ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے

 ابن ابی حاتم میں ہے:

 حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒنے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طر ف خواہ دوزخ کی طرف۔

 ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے ۔

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (۳)

ہرگز نہیں  تم عنقریب معلوم کر لو گے۔‏

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (۴)

ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد معلوم ہو جائے گا ‏

اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائیگا

یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مؤمن مراد ہیں

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ (۵)

ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔

اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے، پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے

لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ (۶)

تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے۔ ‏

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ (۷)

اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ ‏

تم جہنم کو انہی ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہوگی جیسے کہ بہت سی احادیث میں یہ تفصیل مروی ہے

ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (۸)

پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا

اس دن تم سے نعمتوں کی بازپرس ہوگی صحت امن رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا

ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے :

 ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا کہ اس وقت کیسے نکلے ہو کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے اتنے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا ۔

پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں پھر فرمایا کہ اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائیگا اور سائے دار جگہ بھی ہم نے کہا بہت اچھا۔

پس آپ ہمیں لے کر ابوالہیشم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے آپ نے سلام کیا اور اجازت چاہی ام ہیثم انصاریہ دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ سلامی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں

جب تین مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے اب تو حضرت ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی آپ آئیے تشریف لے چلئے

آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں

مائی صاحبہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں آپ تشریف لائیے انشاء اللہ آتے ہی ہوں گے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے اتنے میں ہی حضرت ابو الہیشم بھی آ گئے بیحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا

صحابیؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا

پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے

 ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے :

 ابوبکرؓ عمر ؓبیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ یہاں کیسے بیٹھے ہو؟

 دونوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں

 فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں

 اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ تمہارے میاں کہاں گئے ہیں ؟

 کہا  گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آہی گئے خوش ہوگئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاۓ ہیں مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے

آپ نے فرمایا چن کر الگ کر کے لاتے تو جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں  پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ نے فرمایا دیکھو دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا ۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے دیکھو بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا۔

 مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ ؓکہنے لگے ہم سے کس نعمت پر سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں تلواریں گردنوں میں لٹک رہی ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے

 آپ نے فرمایا گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ہاں پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے (مسند احمد)

ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے

 ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائیگا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟

 ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے :

 اس آیت ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ کو سنا کر صحابہ کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی :

 کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں

 اور روایت میں ہے :

 امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا۔ شہد پینے لذتیں حاصل کرنے صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا

حضرت ابن عباس اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

 بدن کی صحت کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے جیسے قرآن کریم میں ہے

إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً  (۱۷:۳۶)

ہر شخص سے اس کے کان اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہوگی

 لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں صحت اور فراغت یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں

بزار میں ہے

 تہبند کے سوا سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوال ہرچیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے :

 اللہ عز و جل قیامت کے دن کہے گا                                  

 اے ابن آدم میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے؟

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com