Ads:

Rosegal Plus Size 

Invite Friends Get $15

Zaful site coupon

Clearance Sale

تفسیر ابن کثیر  (حواشی: مولانا صلاح الدين يوسف)

سورۃ   الحاقہ

Previous           Index           Next

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الْحَاقَّةُ(1)‏

ثابت ہونے والی

قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس میں امر الٰہی ثابت ہوگا اور خود یہ بھی بہر صورت وقوع پذیر ہونے والی ہے، اس لئے اسے الْحَاَقَّۃُ سے تعبیر فرمایا۔

مَا الْحَاقَّةُ(2)

ثابت ہونے والی کیا ہے؟

یہ لفظاً استفہام ہے لیکن اس کا مقصد قیامت کی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔

وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحَاقَّةُ(3)

تجھے کیا معلوم کہ وہ ثابت شدہ کیا ہے؟

گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیونکہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ علم سے باہر ہے (فتح القدیر)

كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ(4)

اس کھڑکا دینے والی کو ثمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا

اس میں قیامت کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔

فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ(5)

(جس کے نتیجے میں) ثمود تو بےحد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کر دیئے گئے

اس میں قیام کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔

وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ(6)

اور عاد بےحد تیز و تند ہوا سے غارت کر دیئے گئے

کسی کے قابو میں نہ آنے والی، یعنی نہایت تند و تیز، پالے والی اور بےقابو ہوا کے ذریعے سے حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔

سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا

جسے ان پر سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مثلت رکھا

جسم کے معنی کاٹنے اور جدا جدا کرنے کے ہیں

 اور بعض نے حسوما کے معنی پے درپے کیے ہیں۔ اس سے ان کی درازی کی طرف اشارہ ہے

فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ(7)

پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔‏

 کھوکھلے بےروح جسم کو کھوکھلے تنے سے تشبیہ دی ہے۔

فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ(8)

کیا ان میں سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے۔‏

وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ(9)

فرعون اور اس کے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئیں انہوں نے بھی خطائیں کیں۔

اس سے قوم لوط مراد ہے۔

فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَابِيَةً(10)

اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی بالآخر اللہ نے (بھی) زبردست گرفت میں لیا۔

یعنی ان کی ایسی گرفت کی جو دوسری قوموں کی گرفت سے زائد یعنی سب میں سخت تر تھی۔

إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ(11)

جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا

یعنی پانی بلندی میں تجاوز کر گیا، یعنی پانی خوب چڑھ گیا۔

کُم سے مخاطب عہد رسالت کے لوگ ہیں، مطلب ہے کہ تم جن آبا کی پشتوں سے ہو، ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرکے بپھرے ہوئے پانی سے بچایا تھا۔

 اَلْجَارِیَۃ سے مراد سفینہ نوح علیہ السلام ہے۔

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ(12)

تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت اور یادگار بنا دیں اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔

یعنی یہ فعل کہ کافروں کو پانی میں غرق کردیا اور مومنوں کو کشتی میں سوار کرا کے بچا لیا تمہارے لیے اس کو عبرت و نصیحت بنا دیں تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو۔

 یعنی سننے والے اسے سن کر یاد رکھیں اور وہ بھی اس سے عبرت پکڑیں۔

فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ(13)

پس جبکہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی۔

مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب بتلایا جارہا ہے کہ یہ الحاقہ کس طرح واقع ہوگی اسرافیل کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہو جائے گی۔

وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً(14)

اور زمین اور پہاڑ اٹھا لئے جائیں گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گے۔

یعنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور قدرت الہی سے اپنی قرار گاہوں سے ان کو اکھیڑ لیا جائے گا۔

فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ(15)

اس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی۔‏

وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ(16)

اور آسمان پھٹ جائے گا اس دن بالکل بودا ہو جائے گا

یعنی اس میں کوئی قوت اور استحکام نہیں رہے گا جو چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ اس میں استحکام کس طرح رہ سکتا ہے۔

وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَائِهَا ۚ

اس کے کناروں پر فرشتے ہونگے

وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ(17)

اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہونگے

یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہو جائے گا پھر فرشتے کہاں ہونگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے

اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے۔ یعنی اب مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہو گا،

یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)

يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ(18)

اس دن تم سب سامنے پیش کئے جاؤ گے تمہارا کوئی بھید پوشیدہ نہ رہے گا۔

یہ پیشی اس لیے نہیں ہوگی کہ جن کو اللہ نہیں جانتا ان کو جان لے گا وہ تو سب کو ہی جانتا ہے یہ پیشی خود انسانوں پر حجت قائم کرنے کے لیے ہوگی ورنہ اللہ سے تو کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔

فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ(19)

سو جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہنے لگے گا لو میرا نامہ اعمال پڑھو

یعنی جو اس کی سعادت، نجات اور کامیابی کی دلیل ہوگا۔ یعنی وہ مارے خوشی کے ہر ایک کو کہے گا کہ لو، میرا اعمال نامہ پڑھ لو میرا اعمال نامہ تو مجھے مل گیا، اس لئے کہ اسے پتہ ہوگا کہ اس میں اس کی نیکیاں ہی نیکیاں ہوں گی، کچھ برائیاں ہونگی تو اللہ نے معاف فرما دی ہونگی۔

إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ(20)

مجھے تو کامل یقین تھا مجھے اپنا حساب ملنا ہے۔

یعنی آخرت کے حساب وکتاب پر میرا کامل یقین تھا۔

فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ(21)

پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‏

فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ(22)

بلند و بالا جنت میں۔

جنت میں مختلف درجات ہیں ہر درجے کے درمیان بہت فاصلہ ہے جیسے مجاہدین کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین کے تیار کیے ہیں ان کے دو درجوں کے درمیان کا فاصلہ زمین و آسمان جتنا ہے۔ (صحیح مسلم)

قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ(23)

جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے

یعنی بالکل قریب ہونگے کوئی لیٹے لیٹے بھی توڑنا چاہے گا تو ممکن ہوگا۔

كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ(24)

(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کئے

یعنی دنیا میں اعمال صالحہ کئے، یہ جنت ان کا صلہ ہے۔

وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ(25)

لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وہ تو کہے گا کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی

کیونکہ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بدبختی کی علامت ہوگا۔

وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ(26)

اور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے

یعنی مجھے بتلایا ہی نہ جاتا کیونکہ سارا حساب ان کے خلاف ہوگا۔

يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ(27)

کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی

یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔

مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهْ ۜ(28)

میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا۔‏

هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ(29)

میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا۔‏

یعنی جس طرح مال میرے کام نہ آیا، جاہ و مرتبہ اور سلطنت و حکومت بھی میرے کام نہ آئی۔ آج میں اکیلا ہی سزا بھگت رہا ہوں۔

خُذُوهُ فَغُلُّوهُ(30)

(حکم ہوگا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنا دو۔‏

ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ(31)

پھر اسے دوزخ میں ڈال دو

یہ اللہ ملائکہ جہنم کو حکم دے گا۔

ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ(32)

پھر اسے ایسی زنجیروں جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے جکڑ دو۔

ذراع (ہاتھ) یہ کتنا ہوگا اس کی وضاحت ممکن نہیں تاہم اس سے اتنا معلوم ہوا کہ زنجیر کی لمبائی ستر ذراع ہوگی۔

إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ(33)

بیشک یہ اللہ عظمت والے پر ایمان نہ رکھتا تھا

یہ مذکورہ سزا کی علت یا مجرم کے جرم کا بیان ہے۔

وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ(34)

اور مسکین کے کھلانے پر رغبت نہ دلاتا تھا

یعنی عبادت و اطاعت کے ذریعے سے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔

 گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔

فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ(35)

‏ پس آج اس کا نہ کوئی دوست ہے۔‏

وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ(36)

اور نہ سوائے پیپ کے اس کی کوئی غذا ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ یہ جہنم میں کوئی درخت ہے

بعض کہتے ہیں کہ زقوم ہی کو غسلین کہا گیا ہے

 اور بعض کہتے ہیں کہ جہنمیوں کی پیپ یا ان کے جسموں سے نکلنے والا خون اور بدبودار ہوگا۔

 اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔آمین۔

لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ(37)

جسے گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔

خاطئون سے مراد اہل جہنم ہیں جو کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اس لیے کہ یہ گناہ ایسے ہیں جو خلود فی النار کا سبب ہیں۔

فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ(38)

پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو۔‏

وَمَا لَا تُبْصِرُونَ(39)

اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے

یعنی اللہ کی پیدا کردہ وہ چیزیں، جو اللہ کی ذات اور اس کی قدرت و طاقت پر دلالت کرتی ہیں، جنہیں تم دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، ان سب کی قسم ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ(40)

کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے

بزرگ رسول سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور قول سے مراد تلاوت ہے

یعنی رسول کریم سے مراد ایسا قول ہے جو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمہیں پہنچاتا ہے۔ کیونکہ قرآن، رسول یا جبرائیل علیہ السلام کا قول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا قول ہے جو اس نے فرشتے کے ذریعے سے پیغمبر پر نازل فرمایا ہے، پھر پیغمبر اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ(41)

یہ کسی شاعر کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے۔

جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور کہتے ہو اس لیے کہ یہ اصناف شعر سے نہ اس کے مشابہ ہے پھر یہی کسی شاعر کا کلام کس طرح ہو سکتا ہے۔

وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ(42)

نہ کسی کاہن کا قول ہے (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو۔

جیسا کہ تم بعض دفعہ تم یہ دعویٰ کرتے ہو حالانکہ کہانت بھی ایک دوسری چیز ہے۔

 قلت دونوں جگہ نفی کے معنی میں ہے یعنی تم نہ قرآن پر ایمان لاتے ہو نہ نصیحت پر عمل کرتے ہو۔

تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ(43)

(یہ تو )رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‏

یعنی رسول کی زبان سے ادا ہونے والا یہ قول رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے اسے تم کبھی شاعری اور کبھی کہانت کہہ کر اس کی تکذیب کرتے ہو۔

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ(44)

اور اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا

یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیتا، یا اس میں کمی بیشی کر دیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔

لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ(45)

تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے

یا دائیں ہاتھ کے ساتھ اس کی گرفت کرتے، اس لئے کہ دائیں ہاتھ سے گرفت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اور اللہ کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ(46)

پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے

خیال رہے یہ سزا، خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔

اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا وعدہ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فوراً سزا سے دوچار کردیں گے لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جاسکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔

فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ(47)

پھر تم سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول تھے، جن کو اللہ نے سزا نہیں دی، بلکہ دلائل و معجزات اور اپنی خاص تائید و نصرت سے انہیں نوازا۔

وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ(48)

یقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے۔‏

کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ورنہ قرآن تو سارے ہی لوگوں کے لیے نصیحت لے کر آیا ہے۔

وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنْكُمْ مُكَذِّبِينَ(49)

ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں۔‏

وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ(50)

بیشک (یہ جھٹلانا) کافروں پر حسرت ہے

یعنی قیامت والے دن اس پر حسرت کریں گے، کہ کاش ہم نے قرآن کی تکذیب نہ کی ہوتی۔

یا یہ قرآن بجائے خود ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگا، جب وہ اہل ایمان کو قرآن کا اجر ملتے ہوئے دیکھیں گے۔

وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ(51)

اور بیشک (و شبہ) یہ یقینی حق ہے

یعنی قرآن اللہ کی طرف سے ہونا بالکل یقینی ہے، اس میں قطعاً شک کی کوئی گنجائش نہیں۔

یا قیامت کی بابت جو خبر دی جا رہی ہے، وہ بالکل حق اور سچ ہے۔

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ(52)

پس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر

جس نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef Mar 2016

AmazingCounters.com