القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ التوبہ

Previous           Index           Next

 (صاف) جواب ہے اﷲ کی طرف سے اور اسکے رسول سے، ان مشرکوں کو جن سے تم کو عہد تھا۔

.1

 سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے اور جان لو کہ تم نہ تھکا سکو گے اﷲ کو،

اور یہ کہ(یقیناً) اﷲ رُسوا کرتا ہے منکروں کو۔

.2

 اور سُنا دینا (اطلاع) ہے اﷲ کی طرف سے اور اسکے رسول سے، لوگوں کو دِن بڑے حج کے

کہ(بیشک) اﷲ الگ (بری الذِّمہ) ہے مشرکوں سے اور اسکا رسول۔

سو اگر تم توبہ کرو تو تم کو (تمہارا) بھلا ہے۔اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم نہ تھکا (عاجز کر) سکو گے اﷲ کو۔

اور خوشخبری دے منکروں کو دُکھ والی مار کی۔

.3

 مگر جن مشرکوں سے تم کو عہد تھا، پھر کچھ قصور نہ کیا تیرے ساتھ،اور مدد نہ کی تمہارے مقابلے میں کسی کو،

 سو ان سے پورا پہنچاؤ (کرو) عہد اُنکے وعدہ (مقررہ مدت) تک،

اﷲ کو خوش (پسند) آتے ہیں احتیاط والے (متقی) ۔

.4

 پھر جب گذر جائیں مہینے پناہ (حرمت) کے تو مارو (قتل کرو) مشرکوں کو جہاں پاؤ،

اور پکڑو (انہیں) اور گھیرو (انہیں) اور بیٹھو ہر جگہ اُن کی تاک پر۔

پھر اگر وہ توبہ کریں اور کھڑی رکھیں (قائم کریں) نماز اور دیا کریں زکوٰۃ تو چھوڑ دو اُن کی راہ۔

(بیشک) اﷲ ہے بخشتا مہربان۔

.5

 اور اگر کوئی مشرک تجھ سے پناہ مانگے تو اسکو پناہ دے جب تک وہ سن لے کلام اﷲ کا، پھر پہنچا دے اسکو جہاں وہ نڈر ہو۔

یہ اس واسطے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔

.6

 کیونکر ہو مشرکوں کو عہد اﷲ پاس اور اسکے رسول پاس،مگر جن سے تم نے عہد کیا مسجد الحرام پاس۔

 سو جب تک تم سے سیدھے (عہد پر) رہیں، تم ان سے سیدھے (عہد پر) رہو؟

(بیشک) اﷲ کو خوش (پسند) آتے ہیں احتیاط (متقی) والے۔

.7

 کیونکر صلح (عہد) رہے؟ اور اگر وہ تم پر ہاتھ پائیں، نہ لحاظ کریں تمہاری خویشی (قرابت) کا، نہ عہد کا۔

تم کو راضی کر دیتے ہیں اپنے منہ کی بات سے، اور ان کے دل نہیں مانتے۔اور بہت ان میں بے حکم ہیں۔

.8

بیچے انہوں نے حکم اﷲ کے تھوڑی قیمت پر، پھر اٹکے (روکے) اسکی راہ سے۔

وہ لوگ بُرے کام ہیں جو کر رہے ہیں۔

.9

نہ لحاظ کریں کسی مسلمان کے حق میں قرابت کا، نہ عہد کا۔

اور وہی ہیں زیادتی پر۔

.10

سو اگر توبہ کریں اور کھڑی رکھیں (قائم کریں) نماز اور دیتے رہیں زکوٰۃ، تو تمہارے بھائی ہیں حکم شرح (دین) میں،

اور ہم کھولتے ہیں پتے (نشانیاں) ، ایک جاننے (علم) والے لوگوں کو۔

.11

 اور اگر توڑیں اپنی قسمیں عہد کئے پیچھے اور عیب دیں تمہارے دین میں، تو لڑو کُفر کے سرداروں (علمبرداروں) سے ،

اُن کی قسمیں کچھ نہیں شاید وہ باز آئیں۔

.12

 کیوں نہ لڑو ایسے لوگوں سے، کہ توڑیں اپنی قسمیں اور فکر میں رہیں کہ رسول کو نکال دیں ،اور انہوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے۔

کیا اُن سے ڈرتے ہو؟

سو اﷲ کا ڈر چاہیئے تم کو زیادہ اگر ایمان رکھتے ہو۔

.13

 لڑو اُن سے تا (کہ) عذاب کرے اﷲ اُن کو تمہارے ہاتھوں اور رُسوا کرے،اور تم کو اُن پر غالب کرے،

 اور ٹھنڈے کرے دِل کتنے مسلمانوں کے۔

.14

 اور نکالے ان کے دل کی جَلن،

اور اﷲ توبہ(کی توفیق) دےگا جس کو چاہے گا۔

اور اﷲ سب جانتا ہے حکمت والا۔

.15

(اے مسلمانو!) کیا جانتے ہو کہ (یونہی) چھوٹ جاؤ گے اور ابھی معلوم نہیں کئے اﷲ نے تم میں سے جو لوگ لڑے ہیں،

اور نہیں پکڑا اُنہوں نے سوا اﷲ کے اور اسکے رسول کے اور مسلمانوں کے کسی کو بھیدی۔

اور اﷲ کو سب خبر ہے تمہارے کام کی۔

.16

مشرکوں کا کام نہیں کہ آباد کریں اﷲ کی مسجدیں اور مانتے جائیں (گواہی دیں) اپنے اوپر کفر کو۔

وہ لوگ! خراب گئے اِن کے عمل، اور آگ میں رہیں گے وہ ہمیشہ۔

.17

 وہی آباد کرے مسجدیں اﷲ کی جو یقین لایا اﷲ پر اور پچھلے دن (آخرت) پر،

اور کھڑی (قائم) کی نماز اور دی زکوٰۃ، اور نہ ڈرا سوا اﷲ کے کسی سے۔

سو اُمیدوار ہیں وہ لوگ، کہ ہوں ہدایت والوں میں۔

.18

 کیا تم نے ٹھہرایا حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد الحرام کا بسانا برابر اسکے جو یقین لایا اﷲ پر اور پچھلے دن پر اور لڑا (جہاد کیا) اﷲ کی راہ میں؟

نہیں برابر(یہ دونوں) اﷲ کے پاس۔

اور اﷲ راہ نہیں دیتا بے انصاف لوگوں کو۔

.19

جو یقین لائے اور گھر چھوڑ آئے اور لڑے اﷲ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے، اُن کو بڑا درجہ ہے اﷲ کے پاس۔

اور وہی پہنچے مراد کو۔

.20

خوشخبری دیتا ہے ان کو پروردگار ان کا اپنی طرف سے مہربانی کی اور رضامندی کی، اور باغوں کی جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا۔

.21

 رہا کریں اُن میں مُدام (ہمیشہ) ۔

بیشک اﷲ کے پاس بڑا ثواب ہے۔

.22

 اے ایمان والو! نہ پکڑو اپنے باپوں کو اور بھائیوں کو رفیق، اگر وہ عزیز رکھیں کُفر کو ایمان سے۔

اور جو تم میں اُن کی رفاقت کرے سو وہی لوگ ہیں گنہگار۔

.23

 تُو کہہ، اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں ،اور برادری

 اور مال جو کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو،اور حویلیاں جو پسند کرتے ہو،

 تم کو عزیز ہیں اﷲ سے اور اسکے رسول سے،اور لڑنے (جہاد) سے اس کی راہ میں، تو راہ دیکھو، جب تک اﷲ بھیجے حکم اپنا۔

اور اﷲ راہ (ہدایت) نہیں دیتا نا فرمان لوگوں کو۔

.24

 مدد کر چکا ہے تم کو اﷲ بہت میدانوں میں،اور دن حنین کے،

جب اِترائے تم اپنی بہتائیت (کثرت) پر، پھر وہ کچھ کام نہ آئی تمہارے،

اور تنگ ہو گئی تم پر زمین ساتھ اپنی فراخی (وسعت) کے (باوجود) ،پھر ہٹھے (بھاگ نکلے) تم پیٹھ دے (پھیر) کر۔

.25

پھر اتاری اﷲ نے اپنی طرف سے تسکین اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر،اور اُتاریں فوجیں، جو تم نے نہیں دیکھیں۔

 اور مار دی کافروں کو۔

اور یہی سزا ہے منکروں کی۔

.26

پھر توبہ (کی توفیق) دےگا اﷲ، اسکے بعد جس کو چاہے۔اور اﷲ بخشتا ہے مہربان۔

.27

 اے ایمان والو!مشرک جو ہیں سو پلید (ناپاک) ہیں، سو نزدیک نہ آئیں مسجد الحرام کے اس برس کے بعد۔

اور اگر تم ڈرتے ہو فقر سے تو آگے غنی کرےگا تم کو اﷲ اپنے فضل سے اگر چاہے۔

(بیشک) اﷲ ہے سب جانتا حکمت والا۔

.28

 لڑو ان لوگوں سے، جو یقین نہیں رکھتے اﷲ پر، نہ پچھلے (آخرت کے) دن پر،

نہ حرام جانیں جو حرام کیا اﷲ نے اور اس کے رسول نے،

اور نہ قبول کریں دین سچا، وہ جو کتاب والے ہیں،

جب تک دیں جزیہ، سب ایک ہاتھ سے اور وہ بے قدر ہوں۔

.29

 اور یہود نے کہا، عزیر بیٹا اﷲ کا۔

اور نصارٰی نے کہا، مسیح بیٹا اﷲ کا۔

یہ باتیں کہتے ہیں اپنے منہ سے۔

ریس کرنے لگے اگلے منکروں کی بات کی۔

مار ڈالے ان کو اﷲ۔

 کہاں سے پھرے جاتے (دھوکا کھا رہے) ہیں۔

.30

 ٹھہرائے ہیں اپنے عالم اور درویش خدا، اﷲ کو چھوڑ کر، اور مسیح بیٹا مریم کا۔

اور حکم یہی ہوا تھا کہ بندگی کریں ایک صاحب کی،

کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا۔

وہ پاک ہے ان کے شریک بتانے سے۔

.31

چاہیں کہ بجھا دیں روشنی اﷲ کی اپنے منہ ( کی پھونکوں) سے،اور اﷲ نہ رہے بن پُوری کئے اپنی روشنی، اور پڑے بُرا مانیں منکر۔

.32

 اس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت دے کر اور دین سچا،تا (کہ) اس کو اوپر (غالب) کرے ہر دین سے (پر) ،

 اور پڑے برا مانیں مشرک۔

.33

 اے ایمان والو!بہت عالم اور درویش اہل کتاب کے کھاتے ہیں مال لوگوں کے نا حق،

اور (اس طرح) روکتے ہیں اﷲ کی راہ سے۔

اور جو لوگ گاڑ (جمع کر) رکھتے ہیں سونا اور روپا (چاندی) ، اور خرچ نہیں کرتے اﷲ کی راہ میں،سو اُن کو خوشخبری سُنا دُکھ والی مار کی۔

.34

جس دن آگ دھکائیں گے اس پر دوزخ کی، پھر داغیں گے اس سے ان کے ماتھے اور کروٹیں اور پیٹھیں،

یہ ہے جو تم گاڑتے (جمع کرتے)تھے اپنے واسطے ، اب چکھو مزہ اپنے گاڑنے (جمع کرنے)کا۔

.35

مہینوں کی گنتی اﷲ پاس بارہ مہینے ہیں اﷲ کے حکم میں، جس دن (سے) پیدا کئے آسمان و زمین،

ان میں چار (مہینے) ہیں ادب کے۔

یہی ہے سیدھا دین،

 سو ان میں ظلم نہ کرو اپنے اوپر،

اور لڑو مشرکوں سے ہر حال(سب مل کر) ، جیسے وہ لڑتے ہیں تم سے ہر حال(سب مل کر) ۔

اور جانو کہ اﷲ ساتھ ہے ڈر والوں (متقیوں) کے۔

.36

یہ جو مہینہ ہٹا دینا ہے، سو بڑھائی بات ہے کُفر کے عہد میں، گمراہی میں پڑتے ہیں اس سے کافر ،

چھٹا (کھلا) گنتے ہیں اس کو ایک برس اور ادب کا گنتے ہیں ایک برس کہ پوری کر لیں گنتی جو اﷲ نے رکھی ادب کی،

پھر حلال کرتے ہیں جو منع کیا اﷲ نے،

بھلے دکھائے ہیں ان کو بُرے کام۔اور اﷲ راہ نہیں دیتا منکر قوم کو۔

.37

 اے ایمان والو! کیا ہوا ہے تم کو؟ جب کہئے کوچ کرو اﷲ کی راہ میں، ڈھے جاتے ہو زمین پر۔

کیا ریجھے دنیا کی زندگی پر آخرت چھوڑ کر؟

سو کچھ نہیں دنیا کا برتنا، آخرت کے حساب میں، مگر تھوڑا۔

.38

اگر نہ نکلو گے، تم کو دےگا (اﷲ) دُکھ کی مار،اور بدل لائے گا وہ لوگ تمہارے سوا اور کچھ نہ بگاڑو گے اس کا۔

اور اﷲ سب چیز پر قادر ہے۔

.39

 اگر تم نہ مدد کر وگے رسول کی، تو اس کی مدد کی ہے اﷲ نے، جس وقت اس کو نکالا کافروں نے ،دو جان سے،جب دونوں تھے غار میں،

جب کہنے لگا اپنے رفیق کو، تُو غم نہ کھا، اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔

پھر اﷲ نے اتاری اپنی طرف سے تسکین اُس پر اور مدد کو اسکی بھیجیں وہ فوجیں، کہ تم نے نہ دیکھیں،

اور نیچے ڈالی بات کافروں کی۔

 اور اﷲ کی بات ہمیشہ اوپر ہے۔اﷲ زبردست ہے حکمت والا۔

.40

نکلو ہلکے اور بوجھل، اور لڑو اﷲ کی راہ میں اپنے مال سے اور جان سے۔

یہ بہتر ہے تمہارے حق میں، اگر تم کو سمجھ ہے۔

.41

 اگر کچھ مال ہوتا نزدیک اور سفر ہلکا تو تیرے ساتھ چلتے، لیکن دُور نظر آئی ان کو طرف۔

اب قسمیں کھائیں گے اﷲ کی، کہ ہم مقدور رکھتے تو نکلتے تمہارے ساتھ۔

وبال میں ڈالتے ہیں اپنی جان۔ اور اﷲ جانتا ہے وہ جھوٹے ہیں۔

.42

 اﷲ بخشے تجھ کو، کیوں رخصت دی تُو نے ان کو؟

جب تک معلوم ہوتے تجھ پر جنہوں نے سچ کہا، اور جانتا تُو جھوٹوں کو۔

.43

 نہیں رخصت مانگتے تجھ سے، جو لوگ یقین رکھتے ہیں اﷲ پر اور پچھلے دن (آخرت) پر،اس سے کہ لڑیں اپنے مال اور جان سے۔

اور اﷲ خوب جانتا ہے ڈر والوں (متقیوں) کو۔

.44

رخصت وہی مانگتے ہیں تجھ سے جو یقین نہیں رکھتے اﷲ پر اور پچھلے دن (آخرت) پر،

اور شک میں پڑے ہیں دل ان کے، سو وہ اپنے شک ہی میں بھٹکتے ہیں۔

.45

 اور اگر چاہتے نکلنا تو تیار کرتے کچھ اسباب اس کا،

اور لیکن خوش (پسند) نہ لگا اﷲ کو ان کا اُٹھنا، سو بوجھل کر دیا ان کو اور حکم ہوا کہ بیٹھو ساتھ بیٹھنے والوں کے۔

.46

 اگر نکلتے تم میں کچھ نہ بڑھاتے تمہارا مگر خرابی،اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے اندر، بگاڑ کروانے کی تلاش (کیلئے) ۔

اور تم میں بعضے جاسوس ہیں اُن کے۔

اور اﷲ خوب جانتا ہے بے انصافوں کو۔

.47

 کرتے رہے ہیں تلاش بگاڑ کی آگے (پہلے) سے اور الٹے (اُلٹ پلٹ کرتے) رہے ہیں تیرے کام،

جب تک آ پہنچا سچا وعدہ، اور غالب ہوا حکم اﷲ کا، اور وہ نا خوش ہی رہے۔

.48

 اور بعضے ان میں کہتے ہیں، مجھ کو رخصت دے اور گمراہی میں نہ ڈال،

سنتا ہے وہ تو گمراہی میں پڑے ہیں،اور (یقیناً) دوزخ گھیر رہی ہے منکروں کو۔

.49

 اگر تجھ کو پہنچے کچھ خوبی، وہ بُری لگے ا ن کو۔

اور اگر پہنچے سختی، کہیں ہم نے سنبھال لیا تھا اپنا کام آگے (پہلے) ہی،اور پھر کر جائیں (لوٹ جاتے ہیں) خوشیاں کرتے۔

.50

 تُو کہہ، ہم کو نہ پہنچے گا مگر وہی جو لکھ دیا اﷲ نے ہم کو، وہی ہے صاحب ہمارا۔

اور اﷲ ہی پر چاہیئے بھروسا کریں مسلمان۔

.51

 تُو کہہ تم کیا چیتو گے ( سوچو گے) ہمارے حق میں، مگر دو خوبی میں سے ایک۔

اور ہم امیدوار ہیں تمہارے حق میں کہ ڈالے تم پر اﷲ کچھ عذاب، اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں۔

سو منتظر رہو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

.52

 تُو کہہ، مال خرچ کرو خوشی سے یا نا خوشی سے، ہر گز قبول نہ ہو گا تم سے۔

تحقیق تم ہوئے ہو لوگ بے حکم ( نا فرمان)۔

.53

 اور موقوف ( منع) نہیں ہوا قبول ہونا اُنکے خرچ کا، مگر اسی پر کہ وہ منکر ہوئے اﷲ سے، اور اسکے رسول سے،

اور نہیں آتے نماز کو مگر جی ہارے( سستی اور کاہلی سے)،اور خرچ نہیں کرتے مگر برے دل ( بادلِ نخواستہ) سے۔

.54

 سو تُو تعجب نہ کر اُن کے مال اور اولاد سے۔

یہی چاہتا ہے اﷲ کہ ان کو عذاب کرے ان چیزوں سے دنیا کے جیتے،اور نکلے ان کی جان جب تک وہ کافر ہی رہیں۔

.55

 اور قسمیں کھاتے ہیں اﷲ کی، کہ وہ بیشک تم میں ہیں۔اور وہ تم میں نہیں، لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں۔

.56

 اگر پائیں کہیں بچاؤ، یا کوئی گڑھے یا سر گھسانے کو جگہ، تو اُلٹے بھاگیں اُسی طرف رسیاں توڑاتے۔

.57

 اور بعضے ان میں ہیں کہ تجھ کو طعن دیتے ہیں زکوٰۃ بانٹنے میں۔

سو اگر ان کو ملے اس میں سے تو راضی ہوں اور اگر نہ ملے، تب ہی وہ نا خوش ہو جائیں۔

.58

 اور کیا خوب تھا اگر وہ راضی ہوتے، جو دیا ان کو اﷲ نے اور اسکے رسول نے،

اور کہتے، بس ہے ہم کو اﷲ دے رہے گا ہم کو اﷲ اپنے فضل سے، اور اس کا رسول ،

(بیشک) ہم کو اﷲ ہی چاہیئے ( کی طرف راغب ہیں)۔

.59

 زکوٰۃ جو ہے، سو حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا، اور اس کام پر جانے والوں کا،اور جن کا دل پرچانا ہے،

 اور گردن چھڑانے میں، اور جو تاوان بھریں، اور اﷲ کی راہ میں، اور راہ کے مسافر کو۔

ٹھہرا دیا (یہ فریضہ) ہے اﷲ کا۔ اور اﷲ سب جانتا ہے حکمت والا۔

.60

 اور بعضے ان میں بدگوئی کرتے ہیں نبی کی، اور کہتے ہیں یہ شخص کان (کانوں کا کچا) ہے۔

تُو کہہ، کان (کان لگا کر سنتا) ہے تمہارے بھلے کو، یقین لاتا ہے اﷲ پر، اور یقین کرتا ہے بات مسلمان کی،

اور مہر(سراپا رحمت) ہے ایمان والوں کے حق میں تم میں سے۔

اور جو لوگ بدگوئی کرتے ہیں اﷲ کے رسول کی، اُن کو دُکھ کی مار ہے۔

.61

 قسمیں کھاتے ہیں اﷲ کی تمہارے آگے، کہ تم کو راضی کریں۔

اور (حالانکہ) اﷲ کو اور اسکے رسول کو بہت (زیادہ) ضرور (لازم) ہے راضی کرنا، اگر وہ ایمان رکھتے ہیں۔

.62

وہ جان نہیں چکے، کہ جو کوئی مقابلہ کرے اﷲ اور اسکے رسول سے، تو اسکو ہے دوزخ کی آگ، پڑا رہے اس میں۔

یہی ہے بڑی رسوائی۔

.63

 ڈرا کرتے ہیں منافق کہ نازل نہ ہو اُن پر کوئی سورت کہ جتا دے ان کو جو اُن کے دلوں میں ہے۔

تُو کہہ، ٹھٹھے (مذاق) کرتے رہو۔ اﷲ کھولنے والا ہے جس چیز کا تم کو ڈر ہے۔

.64

 اور جو تُو اُن سے پوچھے، تو کہیں ہم تو بول چال کرتے تھے، اور کھیل۔

تُو کہہ، اﷲ سے اور اس کے کلام سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھے (مذاق) کرتے تھے؟

.65

 بہانے مت بناؤ، تم (یقیناً) کافر ہو گئے ایمان لا کر،

اگر ہم معاف کریں گے تم میں بعضوں کو، البتہ مار بھی دیں گے بعضوں کو، اس پر کہ وہ گنہگار تھے۔

.66

منافق مرد اور عورتیں سب کی ایک چال ہے،

سکھائیں بات بری اور چھڑائیں (منع کریں) بھلی سے، اور بند رکھیں اپنی مٹھی۔

بھول گئے اﷲ کو، سو وہ بھول گیا ان کو،

تحقیق منافق وہی ہیں بے حکم۔

.67

 وعدہ دیا اﷲ نے منافق مرد اور عورتوں کو، اور منکروں کو، دوزخ کی آگ، پڑے رہیں اسی میں۔

وہی بس (موزوں) ہے ان کو۔

اور اﷲ نے ان کو پھٹکارا۔ اور ان کو ہے عذاب برقرار(ہمیشہ قائم رہنے والا) ۔

.68

جس طرح تم سے اگلے زیادہ تھے زور (طاقت) میں، اور بہت رکھتے مال اور اولاد۔

پھر برت گئے اپنا حصہ، پھر تم نے برت لیا اپنا حِصّہ، جیسے برت گئے تم سے اگلے اپنا حصہ،

اور تم نے قدم ڈالے(بھی بحث میں پڑے) ، جیسے انہوں نے قدم ڈالے (وہ بحث میں پڑے) تھے۔

وہ لوگ! مٹ گئے ان کے کئے دنیا میں، اور آخرت میں۔اور وہی لوگ پڑے ہیں زیاں میں(خسارہ اٹھانے والے) ۔

.69

 کیا پہنچا نہیں ان کو احوال اگلوں کا،

قوم نوح کا اور عاد کا اور ثمود کا،اور قوم ابراہیم کا اور مدین والوں کا، اور الٹی بستیوں کا؟

پہنچے اُن پاس ان کے رسول صاف حکم لے کر۔

پھر اﷲ ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا، مگر وہ اپنے پر آپ ظلم کرتے تھے۔

.70

 اور ایمان والے مرد اور عورتیں، ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔

سکھاتے ہیں نیک بات، اور منع کرتے ہیں بُری سے،

اور کھڑی رکھتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور حکم میں چلتے ہیں اﷲ کے اور اسکے رسول کے۔

وہ لوگ، ان پر رحم کرےگا اﷲ۔ البتہ اﷲ زبردست ہے حکمتوں والا۔

.71

 وعدہ دیا اﷲ نے، ایمان والے مردوں اور عورتوں کو باغ، بہتی ہیں نیچے اُنکے نہریں، رہا کریں ان میں (ہمیشہ) ،

اور مکان ستھرے(نفیس قیام گاہیں) ، رہنے کے (سدا بہار) باغوں میں۔

اور رضامندی (خوشنودی) اﷲ کی، (جو) سب سے بڑی۔

یہی ہے بڑی مراد ملنی۔

.72

 اے نبی! لڑائی کر کافروں سے اور منافقوں سے، اور تندخوئی (سختی) کر اُن پر۔

اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بُری جگہ پہنچے۔

.73

قسمیں کھاتے ہیں اﷲ کی ہم نے نہیں کہا۔

اور بیشک کہا ہے لفظ کفر کا، اور منکر ہو گئے ہیں مسلمان ہو کر، اور فکر کیا تھا جو نہ ملا۔

اور یہ سب کرتے ہیں بدلا اس کا کہ دولتمند کر دیا ان کو اﷲ نے، اور اسکے رسول نے، اپنے فضل سے۔

سو اگر توبہ کریں، تو بھلا ہے ان کے حق میں۔اور اگر نا مانیں گے، تو مار دے گا ان کو اﷲ دُکھ کی مار، دنیا میں اور آخرت میں۔

اور نہیں اُن کا روئے زمین میں کوئی حمایتی نہ مددگار۔

.74

 اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ عہد کیا تھا اﷲ سے، اگر دے ہم کو اپنے فضل سے تو ہم خیرات کریں اور ہو رہیں ہم نیکی والوں میں۔

.75

پھر جب دیا ان کو اپنے فضل سے، اس میں بخل کیا اور پھر (پلٹ) گئے ٹلا کر(رُوگردانی کر تے ہوئے) ۔

.76

پھر اس کا اثر رکھا نفاق انکے دل میں، جس دن تک اس سے ملیں گے اس پر کہ خلاف کیا

اﷲ سے جو وعدہ دیا، اور اس پر کہ بولتے تھے جھوٹ۔

.77

جان نہیں چکے، کہ اﷲ جانتا ہے ان کا بھید اور مشورہ،اور یہ کہ اﷲ جاننے والا ہے ہر چھپے کا۔

.78

 وہ جو طعن کرتے ہیں دل کھول کر، خیرات کرنے والے مسلمانوں کو،

اور ان پر جو نہیں رکھتے مگر اپنی محنت (کی کمائی) کا، پھر اُن پر ٹھٹھے (مذاق) کرتے ہیں۔

اﷲ نے اُن سے ٹھٹھا (مذاق) کیا ہے اور ان کو دکھ کی مار ہے۔

.79

 تُو ان کے حق میں بخشش مانگ یا نہ مانگ۔

اگر ان کے واسطے ستر بار بخشش مانگے، تو بھی ہر گز نہ بخشے ان کو اﷲ،

یہ اس پر کہ وہ منکر ہوئے اﷲ سے اور اسکے رسول سے۔

اور اﷲ راہ (ہدایت) نہیں دیتا بے حکم (نافرمان) لوگوں کو۔

.80

 خوش ہوئے پچھاڑی ڈالے گئے (پیچھے رہنے والے) ،بیٹھ کر جدا رسول سے،

اور بُرا لگا کہ لڑیں اپنے مال سے اور جان سے اﷲ کی راہ میں، اور بولے مت کوچ کرو گرمی میں۔

تُو کہہ، دوزخ کی آگ اور سخت گرم ہے۔

 اگر ان کو سمجھ ہوتی۔

.81

 سو ہنس لیں تھوڑا، اور روئیں بہت سا۔ بدلا اس کا جو کماتے تھے۔

.82

سو اگر پھر لے جائے تجھ کو اﷲ، کسی فرقے کی طرف اُن میں سے، پھر یہ رخصت چاہیں تجھ سے نکلنے کو،

تو تُو کہہ، ہر گزنہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی، اور نہ لڑو گے میرے ساتھ کسی دشمن سے۔

تم کو پسند آیا بیٹھ رہنا پہلی بار، سو بیٹھے رہو ساتھ پچھاڑی (پیچھے رہنے) والوں کے۔

.83

 اور نماز نہ پڑھ ان میں کسی پر، جو مر جائے کبھی، اور نہ کھڑا ہو اسکی قبر پر۔

وہ منکر ہوئے اﷲ سے اور اسکے رسول سے، اور مرے ہیں بے حکم(کہ وہ سرکش تھے) ۔

.84

 اور تعجب نہ کر اُن کے مال اور اولاد سے۔

اﷲ یہی چاہتا ہے کہ عذاب کرے ان کو، اُن چیزوں سے دنیا میں اور نکلے ان کی جان جب تک کافر ہی رہیں۔

.85

 اور جب نازل ہوتی ہے کوئی سورت کہ یقین لاؤ اﷲ پر، اور لڑائی کرو اسکے رسول کے ساتھ (ہو کر) ،

رخصت مانگتے ہیں مقدور والے اُن کے، اور کہتے ہیں ہم کو چھوڑ دے، رہ جائیں ساتھ بیٹھنے (پیچھے رہنے) والوں کے۔

.86

خوش آیا کہ رہ جائیں ساتھ پچھلی (پیچھے رہنے والی) عورتوں کے،اور مُہر ہوئی ان کے دل پر، سو ان کو بوجھ (سمجھ) نہیں۔

.87

 لیکن رسول اور جو ایمان لائے ہیں ساتھ اسکے، لڑے ہیں اپنے مال اور جان سے۔

اور انہی کو ہیں خوبیاں، اور وہی پہنچے مراد کو۔

.88

تیار رکھے ہیں اﷲ نے ان کے واسطے باغ، بہتی ہیں نیچے اُنکے نہریں، رہا کریں (ہمیشہ) ان میں۔

یہی ہے بڑی مراد ملنی۔

.89

 اور آئے بہانے کرتے گنوار تا (کہ) رخصت ملے ان کو (پیچھے رہ جانے کی) ،

اور (اس طرح) بیٹھ رہے جو جھوٹے ہوئے اﷲ سے اور رسول سے۔

اب پہنچے گی اُن پر، جو منکر ہیں اُن میں دُکھ کی مار۔

.90

ضعیفوں پر تکلیف نہیں، نہ مریضوں پر،

 نہ اُن پرجن کو پیدا نہیں جو خرچ کریں، جب دل سے صاف ہوں اﷲ اور رسول کے ساتھ۔

نہیں نیکی والوں پر الزام کی راہ۔

اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔

.91

 اور نہ اُن پر(کوئی گرفت ہے) کہ جب تیرے پاس آئے تا (کہ) ان کو سواری دے،

تُو نے کہا، مجھ کو پیدا (میرے پاس) نہیں جو تم کو سواری دوں،

(اس پر) اُلٹے پھرے اور انکی آنکھوں سے بہتے ہیں آنسو اس غم سے، کہ انکو پیدا (پاس کچھ) نہیں جو خرچ کریں۔

.92

 راہ الزام کی اُن پر ہے جو رخصت مانگتے ہیں تجھ سے اور مالدار ہیں۔

خوش (اچھا) لگا انہیں کہ رہ جائیں (پاس) پچھلی (پیچھے رہنے والی) عورتوں کے،

اور مُہر کی اﷲ نے اُن کے دل پر، سو وہ نہیں جانتے ( اسکا انجام) ۔

.93

بہانے لائیں (بنائیں) گے تمہارے پاس، جب پھر (لوٹ) کر جاؤ گے اُن کی طرف۔

تُو کہہ، بہانے مت بناؤ، ہم نہ مانیں گے تمہاری بات، ہم کو بتا چکا ہے اﷲ تمہارے احوال۔

اور ابھی دیکھے گا اﷲ تمہارے کام، اور اس کا رسول،

پھر (لوٹائے) جاؤ گے طرف اس جاننے والے چھپے اور کھلے کے،سو وہ بتائے گا تم کو جو کر رہے تھے۔

.94

 اب قسمیں کھائیں گے اﷲ کی تمہارے پاس، جب پھر کر جاؤ گے اُنکی طرف، تا (کہ) اُن سے درگذر کرو۔

سو درگذر کرو ان سے۔

وہ لوگ ناپاک ہیں،اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، بدلہ اُن کی کمائی کا۔

.95

 قسمیں کھائیں گے تمہارے پاس، کہ تم اُن سے راضی ہو جاؤ ،

سو اگر تم راضی ہو گئے اُنسے، تو اﷲ راضی نہیں بے حکم (نافرمان) لوگوں سے۔

.96

 گنوار سخت منکر ہیں اور منافق اور اسی لائق کہ نہ سیکھیں قاعدے، جو نازل کئے اﷲ نے اپنے رسول پر۔

اور اﷲ سب جانتا ہے حکمت والا۔

.97

اور بعضے گنوار وہ ہیں کہ ٹھہراتے ہیں اپنا خرچ کرنا چٹی(تاوان، نقصان) ، اور تاکتے ہیں تم پر زمانے کی گردشیں۔

 اُنہیں پر آئے گردش بُری۔ اور اﷲ سب سنتا ہے جانتا۔

.98

 اور بعضے گنوار وہ ہیں کہ ایمان لاتے ہیں اﷲ پر اور پچھلے دن (آخرت) پر،

اور ٹھہراتے ہیں اپنا خرچ کرنا نزدیک ہونا اﷲ سے، اور دُعا لینی رسول کی۔

سنتا ہے وہ ان کے حق میں نزدیکی ہے۔

داخل کرے گا ان کو اﷲ اپنی مہر (رحمت) میں۔ اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔

.99

 اور جو لوگ قدیم ہیں پہلے وطن چھوڑنے والے اور مدد کرنے والے، اور جو ان کے پیچھے آئے نیکی سے،

اﷲ راضی اُن سے اور وہ راضی اس سے،

اور رکھے ہیں واسطے ان کے باغ، نیچے بہتی نہریں، رہا کریں ان میں ہمیشہ۔

یہی ہے بڑی مراد ملنی۔

.100

 اور بعضے تمہارے گرد کے گنوار منافق ہیں۔

اور بعضے مدینے والے اڑ رہے ہیں نفاق پر، تُو ان کو نہیں جانتا۔ ہم کو معلوم ہیں۔

ان کو ہم عذاب کریں گے دو بار، پھر پھیرے جائیں گے بڑے عذاب میں۔

.101

 اور بعضے مانے اپنا گناہ ملایا ایک کام نیک اور دوسرا بد۔

شاید اﷲ معاف کرے ان کو۔

بیشک اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔

.102

لے اُن کے مال میں سے زکوٰۃ، کہ ان کو پاک کرے اس سے اور تربیت اور دُعا دے ان کو،

البتہ تیری دُعا ان کو آسودگی ہے۔

اور اﷲ سب سنتا ہے جانتا۔

.103

کیا جان نہیں چکے کہ اﷲ آپ قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں سے اور لیتا زکاتیں (صدکات) ،

اور اﷲ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

.104

 اور کہہ، کہ عمل کئے جاؤ، پھر آگے دیکھے گا اﷲ کام تمہارا اور رسول اور مسلمان۔

اور پیچھے پھیرے (لوٹائے) جاؤ گے اس چھپے اور کھلے کے واقف پاس،پھر وہ جتائے (بتائے) گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے۔

.105

 اور بعضے اور لوگ ہیں کہ ان کا کا م ڈھیل میں (ملتوی) ہے حکم پر اﷲ کے، یا اُنکو عذاب کرے یا اُنکو معاف کرے۔

اور اﷲ سب جانتا ہے حکمت والا۔

.106

 اور جنہوں نے بنائی ہے مسجد ضد پر اور کُفر پر، اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میں،

اور تھانگ ( گھات کی جگہ) اس شخص کی جو لڑ رہا ہے اﷲ سے اور رسول سے، آگے کا(قبل ازیں) ،

اور اب  قسمیں کھائیں گے، کہ ہم نے بھلائی ہی چاہی تھی۔اور اﷲ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔

.107

 تُو نہ کھڑا ہو اس میں کبھی۔

جس مسجد کی بنیاد دھری پرہیزگاری پر پہلے دن سے، وہ لائق ہے کہ تُو کھڑا ہو اس میں۔

اس میں وہ مرد (لوگ) ہیں جن کو خوشی ہے پاک رہنے کی۔

اور اﷲ چاہتا ہے ستھرائی (پاکیزگی) والوں کو۔

.108

بھلا جس نے بنیاد دھری اپنی عمارت کی پرہیزگاری پر اﷲ سے، اور رضامندی پر، وہ بہتر

یا جس نے نیو (بنیاد) رکھی اپنی عمارت کی کنارہ پر ایک کھائی کے جو ڈھیتا (گرتی) ہے،

پھر اس کو لے کر ڈھے (گر) پڑا دوزخ کی آگ میں۔

اور اﷲ راہ (ہدایت) نہیں دیتا بے انصاف لوگوں کو۔

.109

 ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو بنائی تھی شبہ اُن کے دل میں، مگر جب ٹکڑے ہو جائیں اُن کے دل۔

اور اﷲ سب جانتا ہے حکمت والا۔

.110

 اﷲ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور مال، اس قیمت پر کہ اُن کو بہشت ہے۔

لڑتے ہیں اﷲ کی راہ میں، پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں۔

وعدہ ہو چکا اس کے ذمہ پر سچا، توریت اور انجیل اور قرآن میں۔

اور کون ہے قول کا پورا اﷲ سے زیادہ؟

سو خوشیاں کرو اس معاملت پر، جو تم نے کی ہے اُس سے۔

اور یہی ہے بڑی مراد ملنی۔

.111

 توبہ کرنے والے، بندگی کرنے والے، شکر کرنے والے، بے تعلق رہنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے،

حکم کرنے والے نیک بات کو اور منع کرنے والے بُری بات سے،

اور تھامنے والے حدیں باندھی اﷲ کی۔

اور (جنت کی) خوشخبری سنا ایمان والوں کو۔

.112

نہیں پہنچتا نبی کو اور مسلمانوں کو، کہ بخشش مانگیں مشرکوں کی، اور اگرچہ وہ ہوں ناتے والے(رشتے دار) ،

جب کھل چکا ان پر کہ وہ ہیں دوزخ والے۔

.113

اور بخشش مانگنا ابراہیم کا اپنے باپ کے واسطے، سو نہ تھا مگر وعدہ کے سبب، کہ وعدہ کر چکا تھا اس سے۔

پھر جب اس پر کھلا کہ وہ دشمن ہے اﷲ کا، اس سے بیزار ہوا۔

ابراہیم بڑا نرم دل تھا تحمل والا۔

.114

 اور اﷲ ایسا نہیں کہ گمراہ کرے کسی قوم کو جب اُن کو راہ پر لا چکا، جب تک کھول نہ دے اُن پر جس سے ان کو بچنا۔

اﷲ سب چیز سے واقف ہے۔

.115

اﷲ جو ہے اسکی سلطنت ہے آسمان و زمین میں۔جلاتا (زندگی دیتا)ہے اور مارتا ہے۔

اور تم کو کوئی نہیں اﷲ کے سوا حمایتی نہ مددگار۔

.116

 اﷲ مہربان ہوا نبی پر اور مہاجرین اور انصار پر، جو ساتھ رہے نبی کے مشکل کی گھڑی میں،

بعد اسکے کہ قریب ہوئے کہ دل پھر جائیں بعضوں کے ان میں سے، پھر مہربان ہوا ان پر۔

وہ اُن پر مہربان ہے رحم کرنے والا۔

.117

اور ان تین شخص پر جن کو پیچھے (جنکا معاملہ ملتوی) رکھا تھا۔

یہاں تک کہ جب تنگ ہوئی ان پر زمین ساتھ اسکے کہ کشادہ ہے،اور تنگ ہوئی اُن پر اپنی جان،

 اور اٹکلے (گمان کرنے لگے) کہ کہیں پناہ نہیں اﷲ سے مگر اسی کی طرف۔

پھر مہربان ہوا اُن پر، کہ وہ پھر (لوٹ) آئیں۔

اﷲ ہی ہے مہربان رحم والا۔

.118

 اے ایمان والو! ڈرتے رہو اﷲ سے، اور رہو ساتھ سچوں کے۔

.119

 نہ چاہیئے مدینے والوں کو، اور جو انکے گرد گنوار ہیں، کہ(چھوڑ کر پیچھے) رہ جائیں رسول اﷲ کے (کا) ساتھ،

اور نہ یہ کہ اپنی جان کو چاہیں زیادہ اس کی جان سے۔

یہ اس واسطے کہ نہ کہیں پیاس کھینچتے ہیں نہ محنت اور نہ بھوک اﷲ کی راہ میں،

اور نہ پاؤں پھیرتے ہیں کہیں جس سے خفا ہوں کافر،اور چھینتے ہیں دشمن سے کچھ چیز، مگر لکھا جاتا ہے اس پر انکو نیک عمل۔

تحقیق اﷲ نہیں کھوتا حق نیکی والوں کا۔

.120

 اور نہ خرچ کرتے ہیں کچھ خرچ چھوٹا یا بڑا، اور نہ کاٹتے ہیں کوئی میدان مگر لکھتے ہیں ان کے واسطے،

کہ بدلہ دے ان کو اﷲ، بہتر کام کا جو کرتے تھے۔

.121

 اور ایسے تو نہیں مسلمان کہ سارے کوچ میں نکلیں۔

سو کیوں نہ نکلے ہر فرقہ سے ان کے ایک حصہ تا (کہ) سمجھ پیدا کریں دین میں،

اور تا (کہ) خبر پہنچا دیں اپنی قوم کو، جب پھر جائیں(لوٹ کر آئیں) اُن کی طرف، شاید وہ بچتے رہیں۔

.122

 اے ایمان والو! لڑتے جاؤ اپنے نزدیک کے کافروں سے، اور چاہیئے ان پر معلوم ہو، تمہارے بیچ میں سختی ،

اور جانو کہ اﷲ ساتھ ہے ڈر والوں کے۔

.123

 اور جب نازل ہوئی ایک سُورت، تو بعضے ان میں کہتے ہیں کس کو تم میں زیادہ کیا اس سورت نے ایمان؟

سو جو لوگ یقین رکھتے ہیں، ان کو زیادہ کیا ایمان، اور وہ خوش وقتی کرتے ہیں۔

.124

 اور جنکے دل میں آزار (بیماری) ہے، سو اُن کو بڑھائی گندگی پر گندگی،اور وہ مرے جب تک کافر رہے ۔

.125

 یہ نہیں دیکھتے کہ وہ آزمانے میں آتے ہیں ہر برس ایک بار یا دو بار،پھر توبہ نہیں کرتے، اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔

.126

 اور جب نازل ہوئی ایک سورت، دیکھنے لگے ایک دوسرے کی طرف۔کہ کوئی بھی دیکھتا ہے تم کو، پھر چلے گئے۔

پھیر دیئے ہیں اﷲ نے دِل ان کے، اس واسطے کہ وہ لوگ ہیں کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

.127

آیا ہے تم پاس رسول تم میں کا،

بھاری (ناگوار) ہوئی ہے اس پر جو تم تکلیف پاؤ، تلاش رکھتا ہے تمہاری(بھلائی کی) ،

ایمان والوں پر شفقت رکھتا مہربان۔

.128

 پھر اگر وہ پھر جائیں تو تُو کہہ،

 بس (کافی) ہے مجھ کو اﷲ، کسی کی بندگی نہیں سوائے اس کے۔اسی پر میں نے بھروسا کیا،

اور وہی ہے صاحب بڑے تخت کا۔

*********

.129

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com