القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ یونس

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 الف لام را،

یہ آیتیں ہیں پکی (پُر حکمت) کتاب کی۔

.1

 کیا لوگوں کو تعجب ہواکہ حکم بھیجا ہم نے ایک مرد کو اُن میں سے کہ ڈر سنائے لوگوں کو،

اور خوشخبری دے جو کوئی یقین لائے کہ ان کو ہے پایا سچا اپنے رب کے ہاں۔

کہنے لگے منکر بیشک یہ جادوگر ہے صریح (کھلا) ۔

.2

تمہارا رب اﷲ ہے، جن نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں، پھر قائم ہوا عرش پر تدبیر کرتا کام کی۔

کوئی سفارش نہ کر سکے مگر جو پہلے اس کا حکم ہو۔

وہ اﷲ ہے رب تمہارا، سو اس کو پوجو۔

کیا تم دھیان نہیں کرتے۔

.3

 اسی کی طرف پھر (لوٹ) جانا ہے تم سب کو۔ وعدہ ہے اﷲ کا سچا۔

وہی بنائے (پیدا کرے) پہلے، پھر اسکو دہرائے (دوبارہ پیدا کرے) گا،

 تا (کہ) بدلہ دے ان کو جو یقین لائے تھے اور کئے تھے کام نیک انصاف سے۔

 اور جو منکر ہوئے، اُن کو پینا ہے کھولتا پانی، اور دُکھ کی مار، اس پر کہ منکر ہوتے تھے۔

.4

 وہی ہے! جس نے بنایا سورج کو چمک اور چاند کو اجالا، اور ٹھہرائیں اسکو منزلیں، تو پہچانو گنتی برسوں کی اور حساب(تاریخوں کا) ۔

 نہیں بنایا اﷲ نے یہ سب مگر تدبیر سے۔

کھولتا ہے پتے (نشانیاں) ایک لوگوں پر جن کو سمجھ ہے۔

.5

 البتہ بدلنے میں رات اور دن کے اور جو بنایا اﷲ نے آسمان و زمین میں پتے (نشانیاں) ہیں ایک لوگوں کو جو ڈر رکھتے ہیں۔

.6

جو امید نہیں رکھتے ہمارے ملنے کی اور راضی ہوئے دنیا کی زندگی پر، اور اس میں چین پکڑا،

اور جو ہماری قدرتوں سے خبر نہیں رکھتے۔

.7

 ایسوں کو ٹھکانا ہے آگ، بدلہ اس کا جو کماتے تھے۔

.8

 جو لوگ یقین لائے اور کئے کام نیک، راہ دے (پہنچائے) گا ان کو رب اُن کا انکے ایمان سے(انکی منزل تک) ۔

بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، باغوں میں آرام کے۔

.9

 اُن کی دُعا اس جگہ، یہ کہ پاک ذات ہے تیری یا اﷲ! اور (باہمی) ملاقات ان کی، سلام۔

اور تمام (ختم) ان کی دُعا اس پر کہ سب خوبی اﷲ کو جو صاحب سارے جہان کا۔

.10

 اور اگر شتاب (جلدی) دے اﷲ لوگوں کو بُرائی جیسے شتاب (جلدی) مانگتے ہیں بھلائی، تو پوری کر چکے انکی عمر (مہلت) ۔

سو ہم چھوڑ رکھتے ہیں، جن کو امید نہیں ہماری ملاقات کی، اپنی شرارت میں بہکتے۔

.11

 اور جب پہنچے انسان کو تکلیف، ہم کو پکارے پڑا ہوا یا بیٹھا یا کھڑا۔

پھر جب ہم نے کھول (ٹال) دی اس سے وہ تکلیف، چلا گیا۔ گویا کبھی نہ پکارا تھا ہم کو کسی تکلیف پہنچنے پر۔

اسی طرح بن پایا ہے بے لحاظ لوگوں کو، جو کچھ کر رہے ہیں۔

.12

 اور ہم کھپا (ہلاک کر) چکے ہیں وہ سنگتیں (قومیں) تم سے پہلے، جب ظالم ہو گئے،

اور لائے تھے اُن پاس رسول اُن کے کھلی نشانیاں اور ہر گز نہ تھے ایمان لانے والے۔

یوں ہی سزا دیتے ہیں ہم قوم گنہگار کو۔

.13

پھر تم کو ہم نے نائب کیا زمین میں اُن کے بعد کہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو۔

.14

 اور جب پڑھیے ان پاس آیتیں ہماری صاف (واضح) ،کہتے ہیں جن کو امید نہیں ہم سے ملاقات کی،

لے آ کوئی اور قرآن اسکے سوایا اس کو بدل ڈال۔

تُو کہہ، میرا کام نہیں اس کو بدل لوں اپنی طرف سے۔میں تابع ہوں اسی کا جو حکم (وحی) آئے میری طرف۔

(بیشک) میں ڈرتا ہوں اگر بے حکمی کروں اپنے رب کی، بڑے دن کی مار سے۔

.15

 تُو کہہ، اگر اﷲ چاہتا، تو میں نہ پڑھتا (یہ) تمہارے پاس اور نہ وہ تم کو خبر کرتا اس کی۔

کیونکہ میں رہ چکا ہوں تم میں ایک عمر اس سے پہلے۔

کیا پھر تم نہیں بوجھتے۔

.16

پھر کون ظالم اس سے جو بنا دے اﷲ پر جھوٹ یا جھٹلائے اس کی آیتیں۔

بیشک بھلا نہیں ہوتا گنہگاروں کا۔

.17

 اور پُوجتے ہیں اﷲ سے نیچے جو چیز نہ برا کرے ان کا اور نہ بھلا،اور کہتے ہیں یہ ہمارے سفارشی ہیں اﷲ پاس۔

تُو کہہ، تم اﷲ کو جتاتے ہو جو اسکو معلوم نہیں کہیں آسمانوں میں نہ زمین میں۔

وہ پاک ہے اور بہت دُور ہے اس سے جو شریک کرتے ہیں۔

.18

 اور لوگ جو ہیں سو ایک ہی اُمّت ہیں، پیچھے جُدا جُدا ہوئے۔

اور اگر نہ ایک بات آگے ہو چکتی تیرے رب کی تو فیصلہ ہو جاتا ان میں جس بات میں پھُوٹ رہے ہیں۔

.19

 اور کہتے ہیں کیوں نہ اتری اس پر ایک نشانی اسکے رب سے،

سو تُو کہہ، کہ چھپی بات اﷲ ہی جانے، سو راہ دیکھو، میں تمہارے ساتھ ہوں راہ دیکھتا۔

.20

اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزہ اپنی مہر  کا بعد تکلیف کے جو اُنکو لگی تھی، اسی وقت بنانے لگیں حیلے ہماری قدرتوں میں۔

تُو کہہ اﷲ سب سے جلد بنا سکتا ہے حیلہ۔

ہمارے بھیجے ہوئے لکھتے ہیں حیلے بنانے تمہارے۔

.21

 وہی (تو ہے جو)تم کو پھراتا (چلاتا) ہے جنگل اور دریا میں۔

یہاں تک جب تم ہوئے کشتی میں اور لے کر چلی لوگوں کو اچھی باؤ (موافق ہواؤں کی مدد)سے، اور خوش ہوئے اس سے،

(تو) آئی اُن پر باؤ (ہوا) جھوکے (تیزی) کی اور آئی اُن پر لہر ہر جگہ سے،

 اور اٹکلے (گمان کرنے لگے) کہ وہ گھرے(طوفان میں) ،

(تو اسوقت) پکارنے لگے اﷲ کو، نرے (خالص) ہو کر اسکی بندگی میں۔

اگر تُو بچائے ہم کو اس سے تو بیشک ہم رہیں (تیرے) شکر گزار۔

.22

 پھر جب بچا دیا ان کو اﷲ نے اسی وقت شرارت کرنے لگے زمین میں نا حق کی۔

سنو لوگو! تمہاری شرارت ہے تمہیں پر(تمہارے اپنے ہی خلاف) ،

برت لو (لوٹ لو مزے) دنیا کے جیتے،

پھر ہمارے پاس ہے تم کو پھرنا(لوٹنا ہے) ، پھرہم جتا (بتا) دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے۔

.23

دنیا کا جینا وہی کہاوت ہے، جیسے ہم نے پانی اتارا آسمان سے،پھر ایک مل (عمدہ) نکلا اس سے سبزہ زمین کا، جو کھائیں آدمی اور جانور۔

یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے چمک اور سنگار پر آئی اور اٹکلے (گمان کرنے لگے) زمین والے کہ یہ ہمارے ہاتھ لگی،

پہنچا اس پر ہمارا حکم رات کو یا دن کو، پھر کر ڈالا اس کو کاٹ کر ڈھیر گویا کل کو یہاں نہ تھی بستی۔

اسی طرح ہم کھولتے ہیں پتے (نشانیاں) ان لوگوں پاس جن کو دھیان ہے(جو غوروفکر کرتے ہیں) ۔

.24

 اور اﷲ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کو۔ اور دکھاتا ہے جس کو چاہے راہ سیدھی۔

.25

جنہوں نے کی بھلائی اور بڑھتی (مزید) ، اور نہ چڑھے گی اُن کے منہ پر سیاہی اور نہ رسوائی،

وہ ہیں جنت والے۔ وہ اس میں رہا کریں گے۔

.26

 اور جنہوں نے کمائیں بُرائیاں، بدلہ برائی کا اس کے برابر، اور ان پر چڑھے گی رسوائی۔

کوئی نہیں ان کو اﷲ سے بچانے والا۔

جیسے ڈھانک دیا ہے ان کے منہ پر ایک اندھیرا، ٹکڑا رات کا۔

وہ ہیں آگ والے۔ وہ اس میں رہا کریں گے۔

.27

 اور جس دن جمع کریں گے ہم انکو، پھر کہیں گے شریک والوں کو، کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ تم اور تمہارے شریک۔

پھر توڑا دیں (پھوٹ ڈالیں) گے آپس میں ان کو،اور کہیں گے ان کے شریک، تم ہم کو بندگی نہ کرتے تھے۔

.28

 سو اﷲ بس (کافی) ہے شاہد ہمارے تمہارے بیچ میں، ہم تمہاری بندگی کی خبر نہیں رکھتے۔

.29

وہاں جانچ لے گا ہر کوئی جو آگے بھیجا ،

اور رجوع ہوں گے اﷲ کی طرف، جو سچا صاحب ہے ان کا،

اور گم ہو جائے گا ان پاس سے جو جھوٹ باندھتے تھے۔

.30

 تُو پوچھ، کہ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان اور زمین سے؟

یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا؟

اور کون نکالتا ہے جیتا مُردے سے اور نکالتا ہے مُردہ جیتے سے؟

اور کون تدبیر کرتا ہے کام کی؟

سو کہیں گے اﷲ!

تو تُو کہہ، پھر (بھی) تم ڈرتے نہیں۔

.31

 سو یہ اﷲ ہے رب تمہارا سچا۔ پھر کیا رہا سچ پیچھے مگر بھٹکنا؟

سو کہاں سے پھرے جاتے ہو؟۔

.32

 اسی طرح ٹھیک آئی بات تیرے رب کی ان بے حکموں پر، کہ یقین نہ لائیں گے۔

.33

 پوچھ کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو پہلے بنائے(ابتدا کرے تخلیق کی) ، پھر اس کو دہرائے۔

تُو کہہ، اﷲ پہلے بناتا (تخلیق کرتا) ہے، پھر اس کو دہراتا ہے،سو کہاں سے الٹ(راہ پر) جاتے ہو۔

.34

 پُوچھ، کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو راہ بتائے صحیح،

تُو کہہ، اﷲ راہ بتاتا ہے صحیح۔

اب جو کوئی راہ بتائے صحیح، اس کو چاہیئے ماننا یا جو آپ نہ پائے راہ، مگر جب کوئی بتائے۔

سو کیا ہوا ہے تم ! کیسا انصاف کرتے ہو؟

.35

 وہ اکثر چلتے ہیں اٹکل (گمان) پر۔

 اٹکل کام نہیں کرتی صحیح بات میں کچھ۔

اﷲ کو معلوم ہے جو کام کرتے ہیں۔

.36

 اور وہ نہیں یہ قرآن کہ کوئی بنا لے اﷲ کے سوا،

اور لیکن سچا کرتا ہے اگلے کلام کو، اور بیان کتاب کا، جس میں شبہ نہیں، جہاں کے صاحب سے۔

.37

 کیا لوگ کہتے ہیں، یہ بنا لایا ہے۔

تُو کہہ، تم لے آؤ ایک سورۃ ایسی،اور پکارو جس کو پکار سکو اﷲ کے سوا، اگر تم سچے ہو۔

.38

 کوئی نہیں! پر جھٹلانے لگے ہیں جسکے سمجھنے پر قابو نہ پایا، اور ابھی آئی نہیں اس کی حقیقت۔

یوں ہی جھٹلاتے رہے اُن سے اگلے،سو دیکھ لے کیسا ہوا آخر گنہگاروں کا۔

.39

اور کوئی ان میں یقین کرےگا اسکو اور کوئی یقین نہ کرے گا۔

اور تیرے رب کو خوب معلوم ہیں شرارت والے۔

.40

 اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو کہہ، مجھ کو میرا کام کرنا ہے اور تم کو تمہارا کام۔

تم پر ذمہ نہیں میرے کام کا، اور مجھ پر ذمہ نہیں جو تم کرتے ہو۔

.41

اور بعضے ان میں کان رکھتے ہیں تیری طرف۔

کیا تُو سنائے گا بہروں کو؟ اگرچہ بُوجھ نہ رکھتے ہوں۔

.42

 اور بعضے ان میں نگاہ کرتے ہیں تیری طرف۔

کیا تُو راہ دکھائے گا اندھوں کو؟ اگرچہ سوجھ نہ رکھتے ہوں۔

.43

 اﷲ ظلم نہیں کرتا لوگوں پر کچھ، اور لیکن لوگ اپنے پر آپ ظلم کرتے ہیں۔

.44

 اور جس دن ان کو جمع کرےگا، گویا نہ رہے تھے مگر کوئی گھڑی دن، آپس میں پہچانیں گے۔

بیشک خراب ہوئے، جنہوں نے جھٹلایا اﷲ کا ملنا، اور نہ آئے راہ پر۔

.45

 اگر ہم دکھائیں گے تجھ کو کوئی ان وعدوں میں سے جو دیتے ہیں ان کو، یا پوری کر دیں گے تیری عمر،

سو ہماری طرف ہے ان کو پھر (لوٹ) آنا ،پھر اﷲ شاہد ہے ان کاموں پر جو کرتے ہیں۔

.46

 اور ہر فرقے کا ایک رسول ہے،

پھر جب پہنچا اُن پر رسول ان کا، فیصلہ ہوا اُن میں انصاف سے، اور ان پر ظلم نہیں ہوتا۔

.47

 اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ! اگر تم سچے ہو۔

.48

 تُو کہہ، میں مالک نہیں اپنے واسطے بُرے کا، نہ بھلے کا، مگر جو چاہے اﷲ۔

ہر فرقے کا ایک وعدہ ہے۔

جب پہنچا انکا وعدہ، نہ ڈھیل کریں ایک گھڑی نہ جلدی۔

.49

 تُو کہہ بھلا دیکھو تو اگر آ پہنچے عذاب اس کا راتوں رات، یا دن کو کیا کر لیں گے اس سے پہلے گنہگار۔

.50

 کیا پھر جب (عذاب) پڑ چکے گا، تب یقین کرو گے اس کو۔

اب قائل ہوئے اور تم تھے اسی کی جلدی کرتے۔

.51

پھر کہیں گے گنہگاروں کو، چکھو عذاب ہمیشہ کا۔وہی بدلہ پاتے ہو جو کچھ کماتے تھے۔

.52

اور تجھ سے خبر لیتے ہیں، کیا سچ ہے یہ بات؟

تُو کہہ، البتہ قسم میرے رب کی! یہ سچ ہے۔اور تم (اﷲ کو) تھکا نہ(عاجز نہ کر) سکو گے۔

.53

 اور اگر ہو ہر شخص گنہگار پاس جتنا کچھ ہے زمین میں، البتہ دے ڈالے اپنی چھڑوائی میں۔

اور چھپے چھپے پچھتائیں گے، جب دیکھیں گے عذاب۔

اور ان میں فیصلہ ہو گا انصاف سے،

اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

.54

 سُن رکھو! اﷲ کا ہے، جو کچھ ہے آسمان و زمین میں۔

سُن رکھو! وعدہ اﷲ کا سچ ہے، پر بہت لوگ نہیں جانتے۔

.55

 وہی جِلاتا (زندہ کرتا) ہے اور مارے گا اور اسی کی طرف پھر (لوٹ) جاؤ گے۔

.56

 اے لوگو! تم کو آئی ہے نصیحت تمہارے رب سے،

 اور چنگے کرنے کو جیوں (دلوں) کے روگ(بیماری) ،اور راہ سوجھانے اور مہربانی یقین لانے والوں کو۔

.57

کہہ، اﷲ کے فضل سے اور اسکی مہر (رحمت) سے، سو اسی پر چاہیئے خوشی کریں۔

یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو سمیٹتے ہیں

.58

 تُو کہہ، بھلا دیکھو تو! اﷲ نے جو اتاری تمہارے واسطے روزی،پھر تم نے ٹھہرا لی اس میں سے کوئی حلال اور کوئی حرام۔

کہہ، اﷲ نے حکم دیا تم کو یا اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہو۔

.59

 اور کیا اٹکلے ہیں (سمجھے ہیں)، جھوٹ باندھنے والے اﷲ پر، قیامت کے دن کو۔

اﷲ تو فضل رکھتا ہے لوگوں پر، لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے۔

.60

 اور نہیں ہوتا تو کسی حال میں اور نہ پڑھتا ہے اس میں سے کچھ قرآن،اور نہ کرتے ہو تم لوگ کچھ کام،

 کہ ہم نہیں ہوتے حاضر تم پر جب تم لگتے (مصروف) ہو اس میں۔

اور غائب نہیں رہتا تیرے رب سے،

 ایک ذرّہ بھر زمین میں نہ آسمان میں ،نہ اس سے چھوٹا نہ اس سے بڑا، جو نہیں کھلی کتاب میں۔

.61

سن رکھو! جو لوگ اﷲ کی طرف ہیں، نہ ڈر ہے اُن پر نہ غم کھائیں۔

.62

جو لوگ یقین لائے اور رہے پرہیز کرتے۔

.63

 ان کو ہے خوشخبری دنیا کے جیتے اور آخرت میں۔

بدلتی نہیں اﷲ کی باتیں۔

یہی ہے بڑی مراد ملنی۔

.64

 اور نہ غم کھا اُن کی بات سے، اصل سب زور اﷲ کو ہے۔

وہی ہے سنتا جانتا۔

.65

 سنتا ہے! اﷲ کا ہے جو کوئی ہے آسمان میں اور جو کوئی ہے زمین میں۔

اور یہ جو پیچھے پڑے ہیں شریک پکارنے والے اﷲ کے سوا۔

کچھ نہیں، مگر پیچھے پڑے ہیں خیال کے اور کچھ نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے(قیاس آرائیاں کرتے ہیں) ۔

.66

وہی ہے جس نے بنا دی تم کو رات کہ چین پکڑو اس میں اور دن دیا دکھانے والا۔

اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو سنتے ہیں۔

.67

 کہتے ہیں، اﷲ نے کوئی بیٹا کیا،

پاک ہے، وہ بے نیاز ہے۔

اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔

کچھ سند نہیں تم پاس اس کی۔

کیوں جھوٹ کہتے ہو اﷲ پر، جو بات نہیں جانتے۔

.68

 کہہ، جو لوگ باندھتے ہیں اﷲ پر جھوٹ، بھلا نہیں پاتے۔

.69

 برت (فائدہ اٹھا ) لینا دنیا میں، پھر ہماری طرف ہے ان کو پھر جانا (لوٹ کر آنا ہے) ،

پھر چکھائیں گے ہم اُن کو سخت عذاب، اس پر کہ منکر ہوئے تھے۔

.70

 اور سنا ان کو احوال نوح کا، جب کہا اپنی قوم کو،

اے قوم! اگر بھاری (نا قابلِ برداشت) ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا، اور سمجھانا اﷲ کی باتوں سے، تو میں نے اﷲ پر بھروسہ کیا،

اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام(تدبیر) ، اور جمع کرو اپنے شریک،پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں شبہ،

پھر کر چکو میری طرف (جو کرنا ہے) اور مجھ کو فرصت (مہلت) نہ دو۔

.71

پھر اگر ہٹ جاؤ گے تو میں نے چاہی نہیں تم سے مزدوری۔ میری مزدوری ہے اﷲ پر،

اور مجھ کو حکم ہے کے رہوں حکم بردار۔

.72

 پھر اس کو جھٹلایا،پھر ہم نے بچا دیا اس کو اور جو اسکے ساتھ تھے کشتی میں، اور ان کو قائم (خلیفہ) کیا جگہ پر،

اور ڈبو دیئے جو جھٹلاتے تھے ہماری باتیں۔

سو دیکھ، آخر کیسا ہوا جن کو ڈرایا (متنبہ کیا) تھا۔

.73

پھر بھیجے ہم نے اسکے پیچھے کتنے رسول اپنی اپنی قوم میں،پھر لائے اُن پاس کھلی نشانیاں،

سو ہر گز نہ ہوئے کہ یقین لائیں جو بات جھٹلا چکے پہلے سے۔

اسی طرح ہم مُہر کرتے ہیں دلوں پر زیادتی والوں کے۔

.74

 پھر بھیجا ہم نے اُن کے پیچھے موسیٰ اور ہارون کو، فرعون اور اس کے سرداروں پاس اپنی نشانیاں دے کر،

پھر تکبر کرنے لگے اور وہ تھے لوگ گنہگار۔

.75

 پھر جب آئی ان کو سچی بات ہمارے پاس سے، کہنے لگے، یہ تو جادو ہے صریح (کھلا) ۔

.76

 کہا موسیٰ نے، تم یہ کہتے ہو تحقیق بات کو، جب تم پاس پہنچی۔ کوئی جادو ہے یہ؟

اور بھلا نہیں پاتے جادو کرنے والے۔

.77

بولے، کیا تُو آیا ہے کہ ہم کو پھیر دے اس راہ سے جس پر پائے ہم نے اپنے باپ دادے؟

اور تم دونوں کو سرداری ہو اس ملک میں۔ اور ہم نہیں تم کو ماننے والے۔

.78

 اور بولا فرعون کہ لاؤ میرے پاس جو جادوگر ہو پڑھا (ماہر) ۔

.79

پھر جب آئے جادوگر، کہا ان کو موسیٰ نے، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔

.80

پھر جب انہوں نے ڈالا، موسیٰ بولا، کہ جو تم لائے ہو سو جادو ہے۔

اب اﷲ اس کو بگاڑتا ہے۔اﷲ نہیں سنوارتا شریروں کے کام۔

.81

 اور اﷲ سچا کرتا ہے سچ کو اپنے حکم سے، اور پڑے بُرا مانیں گنہگار۔

.82

پھر کسی نے نہ مانا موسیٰ کو مگر کتنے لڑکوں نے اسکی قوم سے

ڈرتے ہوئےفرعون سے اور انکے سرداروں سے کہ ان کو بچلا نہ دے (آزمائش میں نہ ڈالے) ،

اور فرعون چڑھ رہا ہے(غلبہ حاصل تھا) ملک میں۔ اور اس نے ہاتھ چھوڑ رکھا ہے(حد سے بڑھا ہوا تھا) ۔

.83

 اور کہا موسیٰ نے، اے قوم! اگر تم یقین لائے ہو اﷲ پر، تو اسی پر بھروسا کرو، اگر ہو حکم بردار۔

.84

 تب بولے، ہم نے اﷲ پر بھروسا کیا۔

اے رب! ہم پر نہ آزما زور اس ظالم قوم کا۔

.85

اور چھڑا ہم کو اپنی مہر کر (رحمت سے) اس منکر قوم سے۔

.86

 اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو، اور اس کے بھائی کو، کہ ٹھیراؤ اپنی قوم کے واسطے مصر میں سے گھر،

اور بناؤ اپنے گھر قبلہ کی طرف اور قائم کرو نماز۔ اور خو شخبریاں دے ایمان والوں کو۔

.87

 اور کہا موسیٰ نے،اے رب ہمارے! تُو نے دی ہے فرعون کو اور اسکے سرداروں کو رونق اور مال دنیا کی زندگی میں۔

اے رب! اس واسطے کہ بہکائیں تیری راہ سے۔

اے رب! مٹا دے ان کے مال اور سخت کر ان کے دل کہ نہ ایمان لائیں،جب تک دیکھیں دکھ کی مار۔

.88

فرمایا، قبول ہو چکی دُعا تمہاری،سو تم دونوں ثابت (قدم) رہو، اور مت چلو راہ ان کی جو انجان ہیں۔

.89

 اور پار کیا ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے،

پھر پیچھے پڑا انکے فرعون اور اس کے لشکر، شرارت سے اور زیادتی سے۔

جب تک پہنچا اس پر دباؤ(ڈوبنے لگا) ، کہا،

یقین جانا میں نے، کہ کوئی معبود نہیں مگر جس پر یقین لائے بنی اسرائیل،اور میں ہوں حکم بردارں میں۔

.90

 اب یہ کہنے لگا! اور تُو بے حکم رہا پہلے اور رہا بگاڑ والوں میں۔

.91

سو آج بچائیں گے ہم تجھ کو تیرے بدن سے، تو ہوئے تُو اپنے پچھلوں (بعد والوں)کو نشانی ،

اور البتہ بہت لوگ ہماری قدرتوں پر دھیان نہیں کرتے۔

.92

 اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو، پوری جگہ دینی، اور کھانے کو دیں ستھری چیزیں۔

سو وہ پھوٹے نہیں(اختلاف نہیں کیا)، (کہ)جب تک آ چکی ان کو (پاس) خبر۔

اب تیرا رب ان میں فیصلہ کرے گا قیامت کے دن، جس بات میں وہ پھُوٹ (اختلاف کر)رہے تھے۔

.93

سو اگر تُو ہے شک میں اس چیز سے جو اُتاری ہم نے تیری طرف، تو پوچھ ان سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے آگے(پہلے) ۔

بیشک آیا ہے تجھ کو حق تیرے رب سے،سو تُو مت ہو شبہ لانے والا۔

.94

اور مت ہو اُن میں جنہوں نے جھٹلائیں باتیں اﷲ کی، پھر تُو بھی ہوئے خراب ہونے والا۔

.95

جن پر ٹھیک آئی بات تیرے رب کی وہ نہ مانیں گے۔

.96

 اگرچہ پہنچیں اُن کو ساری نشانیاں، جب تک نہ دیکھیں دُکھ کی مار۔

.97

سو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی کہ یقین لاتی پھر کام آتا ان کو ایمان لانا، مگر یونس کی قوم۔

جب یقین لائے، کھول دیا ہم نے اُن پر سے ذلّت کا عذاب، دنیا کے جیتے،

اور کام چلایا ان کا (بہرہ مند ہونے کا موقع دیا) ایک وقت تک۔

.98

 اور اگر تیرا رب چاہتا، یقین ہی لاتے جتنے لوگ زمین میں ہیں سارے تمام۔

اب کیا تُو زور (زبردستی) کرےگا لوگوں پرکہ ہو جائیں با ایمان۔

.99

 اور کسی جی (جان) کو نہیں ملتا کہ یقین لائے مگر اﷲ کے حکم سے،

اور وہ ڈالتا ہے گندگی (شرک و کُقر کی) اُن پر جو نہیں بوجھتے(عقل و سمجھ سے کام نہیں لیتے) ۔

.100

 تُو کہہ، دیکھو تو! کیا کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔

اور کچھ کام نہیں آتی نشانیاں اور ڈراتے (تنبیہات) ان لوگوں کو جو نہیں مانتے۔

.101

 سو اب کچھ راہ دیکھتے ہیں، مگر انہیں کے سے دن جو ہو چکے ہیں اُن سے پہلے۔

تُو کہہ، اب راہ دیکھو! میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھتا ہوں۔

.102

 پھر ہم بچا دیتے ہیں اپنے رسولوں کو، اور جو ایمان لائے، اسی طرح۔

ذمہ ہمارا بچا دیں گے ایمان والوں کو۔

.103

تُو کہہ، اے لوگو! اگر تم شک میں ہو میرے دین سے، تو میں نہیں پُوجتا جن کو تم پُوجتے ہو اﷲ کے سوا،

لیکن میں پُوجتا ہوں اﷲ کو جو تم کو کھینچ لیتا (جسکے قبضے میں تمہاری موت) ہے،

اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں ایمان والوں میں۔

.104

 اور یہ کہ سیدھا کر منہ اپنا دین پر حنیف (یکسو) ہو کر۔ اور مت ہو شرک والوں میں۔

.105

 اور مت پکار اﷲ کے سوا ایسے کو کہ نہ بھلا کرے تیرا اور بُرا۔

پھر اگر تُو نے یہ کیا تو تُو بھی اس وقت ہے گنہگاروں میں۔

.106

 اور اگر پہنچائے اﷲ تجھ کو کچھ تکلیف تو کوئی نہیں اسکو کھولنے والا اسکے سوا۔

اور اگر چاہے تجھ پر کچھ بھلائی تو کوئی پھیرنے والا نہیں اس کے فضل کو۔

پہنچائے وہ جس پر چاہے اپنے بندوں میں۔

اور وہی ہے بخشنے والا مہربان۔

.107

 تُو کہہ، لوگو! حق آ چکا تم کو تمہارے رب سے،

اب جو کوئی راہ پر آئے سو وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو۔

اور جو کوئی بھولا پھرے سو بھولا پھرے گا اپنے بُرے کو۔

اور میں تم پر نہیں ہوا مختار۔

.108

 اور تُو چل اسی پر جو حکم پہنچے تیری طرف اور ثابت (قدم) رہ جب فیصلہ کرے اﷲ۔

اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا۔

*********

.109

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com